Skip to main content
EN

اردو رسم الخط کی اتھارٹی: پاکستانی نژاد دستاویزی نظام کو اسی کی زبان میں پڑھنا — ہاتھ سے لکھے نستعلیق (نکاح نامہ، پرانے یونین کونسل/لینڈ ریکارڈ) کی بحالی، NADRA بمقابلہ ہاتھ سے لکھے دوہرے ریکارڈ کی مطابقت، متعلقہ محکمے سے شروع ہونے والا قونصلی سلسلہ، دو ترجمہ-لمحوں کی ترتیب، اور پاسپورٹ-ہجے/CNIC ہندسوں کی حرف بہ حرف مطابقت — جہاں MoFA کا اپنا ur-pk پورٹل پہلے ہی صارف کو بھیجتا ہے۔ معلوماتی سے خدماتی، ایمانداری سے محدود دائرہ کار۔

دبئی میں اردو قانونی ترجمہ اور دستاویزات کی تصدیق

دبئی میں کسی پاکستانی دستاویز کو سرکاری طور پر قابلِ قبول بنانے کے لیے سب سے پہلے اصل دستاویز کی قونصلی تصدیق (لیگلائزیشن) ہوتی ہے: پہلے جاری کرنے والا محکمہ (مثلاً HEC، IBCC، NAVTTC، PEC یا یونین کونسل/NADRA)، پھر پاکستان کی وزارتِ خارجہ، پھر اسلام آباد میں یو اے ای کا سفارت خانہ، اور آخر میں یو اے ای کی وزارتِ خارجہ (MoFA)۔ چونکہ یو اے ای ہیگ اپاسٹل کنونشن کا رکن نہیں، اس لیے صرف اپاسٹل — چاہے پاکستان اب اپاسٹل جاری بھی کرتا ہو — یو اے ای میں تنہا قبول نہیں ہوتا؛ مکمل قونصلی سلسلہ لازمی رہتا ہے۔ اصل کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد، مین لینڈ کے اداروں کے لیے دستاویز کا عربی میں ترجمہ وزارتِ عدل (وزارة العدل / Ministry of Justice) کے لائسنس یافتہ مترجم سے کرایا جاتا ہے، جبکہ DIFC جیسے کامن لا فورم انگریزی میں کام کرتے ہیں۔ MANJAZ (منجاز) یہ پوری فائل ترتیب دیتا، اداروں سے رابطہ اور ہم آہنگی رکھتا اور عدل سے تسلیم شدہ عربی ترجمہ فراہم کرتا ہے — لیکن یہ کوئی سرکاری ادارہ یا قانونی فرم نہیں، اور نہ خود دستاویزات جاری کرتا ہے، نہ سرکاری مہریں لگاتا ہے۔

  • صرف اپاسٹل کافی نہیں: پاکستان اب اپاسٹل جاری کرتا ہے، مگر یو اے ای ہیگ کنونشن کا رکن نہیں — اس لیے دبئی میں استعمال کے لیے قونصلی تصدیق کا پورا سلسلہ لازم ہے۔
  • یو اے ای کے اداروں کے لیے قانونی ترجمہ عربی میں، اور وہ بھی وزارتِ عدل کے لائسنس یافتہ مترجم سے ہوتا ہے۔ پاکستان کے کسی ’حلف یافتہ/مصدقہ مترجم‘ کی مہر یہاں خودبخود تسلیم نہیں ہوتی۔
  • ہاتھ سے لکھے نکاح نامے اور پرانے اندراجات (یونین کونسل، پنجاب/سندھ لینڈ ریکارڈ) کو پہلے درست پڑھ کر بحال کرنا پڑتا ہے — یہ محض ترجمہ نہیں، نستعلیق خطاطی کی خوانی کا کام ہے۔
  • نام کی ہجے اور شناختی کارڈ (CNIC) کے ہندسے پاسپورٹ سے حرف بہ حرف اور ہندسہ بہ ہندسہ ملنے چاہئیں، ورنہ پوری فائل مسترد ہو سکتی ہے۔
سیدھا جواب

دبئی میں پاکستانی دستاویز کیسے قابلِ قبول بنتی ہے؟

ترتیب طے شدہ ہے: پہلے اصل کی تصدیق کا سلسلہ، پھر عربی ترجمہ۔

راستہ ہمیشہ جاری کرنے والے یا متعلقہ محکمے کی تصدیق سے شروع ہوتا ہے۔ تعلیمی سند کے لیے HEC یا IBCC، فنی/پیشہ ورانہ اسناد کے لیے NAVTTC یا PEC، اور خاندانی دستاویزات (نکاح نامہ، برتھ سرٹیفکیٹ) کے لیے متعلقہ یونین کونسل اور NADRA سے تصدیق کرائی جاتی ہے۔

اس کے بعد دستاویز پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے تصدیق ہوتی ہے، پھر اسلام آباد میں یو اے ای کے سفارت خانے سے، اور دبئی پہنچنے پر یو اے ای کی وزارتِ خارجہ (MoFA) سے۔ یہی چار قدمی قونصلی سلسلہ کسی بیرونی دستاویز کو یہاں ’قانونی وزن‘ دیتا ہے۔

جب اصل دستاویز کی تصدیق مکمل ہو جائے، تب مین لینڈ کے اداروں (عدالت، عدل، اقتصادی محکمے، ویزا) کے لیے اس کا عربی ترجمہ وزارتِ عدل کے لائسنس یافتہ مترجم سے کرایا جاتا ہے۔ MANJAZ یہی ترجمہ فراہم کرتا اور فائل کے مراحل میں ہم آہنگی رکھتا ہے۔

ترتیب کا فیصلہ

ترجمہ پہلے یا تصدیق پہلے؟

یہ فیصلہ آپ نہیں، منزل کا ادارہ کرتا ہے۔

عام اصول یہ ہے کہ پہلے اصل دستاویز کا پورا قونصلی تصدیقی سلسلہ مکمل کیا جائے، اور اس کے بعد عربی ترجمہ کرایا جائے — کیونکہ تصدیقی مہریں اور پشت پر لگنے والے اندراج بھی بعض اوقات ترجمے کا حصہ بنتے ہیں۔

لیکن ہر ادارہ ایک جیسا نہیں۔ کچھ مراحل میں کسی محکمے کو داخلے سے پہلے ترجمہ درکار ہوتا ہے، اور کچھ میں تصدیق کے بعد۔ اسی طرح ہدف زبان بھی مختلف ہے: مین لینڈ اتھارٹیز عربی میں کام کرتی ہیں، جبکہ DIFC عدالتیں انگریزی/کامن لا میں۔

اسی لیے سب سے پہلے یہ طے کریں کہ دستاویز کہاں جمع ہوگی اور وہ ادارہ کون سی زبان اور کون سی ترتیب مانگتا ہے۔ غلط ترتیب کا مطلب ہے دوبارہ ترجمہ، دوبارہ فیس، اور تاخیر۔

سب سے عام غلطی

پاکستان میں ’مکمل‘ سمجھ کر لائی گئی فائل

اس کمیونٹی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ دستاویز پر پاکستان سے اپاسٹل لگوا لیا جائے یا وہیں کسی حلف یافتہ مترجم سے عربی ترجمہ کروا کر یہ سمجھ لیا جائے کہ کام مکمل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای ہیگ کنونشن کا رکن نہیں، اس لیے اپاسٹل تنہا یہاں قبول نہیں ہوتا — قونصلی سلسلہ (MoFA پاکستان، یو اے ای سفارت خانہ اسلام آباد، پھر یو اے ای MoFA) لازم ہے۔ اسی طرح یو اے ای کے اداروں کے لیے عربی ترجمہ وزارتِ عدل کے لائسنس یافتہ مترجم سے ہونا چاہیے؛ کسی اور ملک کے ’sworn translator‘ کی سند یہاں خودبخود تسلیم نہیں ہوتی۔

اس لیے پیسہ اور وقت لگانے سے پہلے صرف ایک سوال کا جواب حاصل کریں: منزل کا ادارہ کیا مانگتا ہے؟

اس کمیونٹی کی اہم دستاویزات

پاکستان سے دبئی: دستاویز اور اس کا سلسلہ

دستاویزپاکستان میں تصدیقی سلسلہدبئی میں ہدف زبان / استعمال
نکاح نامہ / شادی کا سرٹیفکیٹیونین کونسل + NADRA ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ اسلام آباد ← یو اے ای MoFAعربی (فیملی ویزا، عدالت، وراثت)
ڈگری / تعلیمی اسنادHEC یا IBCC ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ ← یو اے ای MoFAعربی (روزگار، ایکویلنسی)
برتھ سرٹیفکیٹNADRA ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ ← یو اے ای MoFAعربی (فیملی/بچوں کا ویزا)
پولیس کریکٹر/کلیئرنس سرٹیفکیٹمتعلقہ محکمہ/NADRA ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ ← یو اے ای MoFAعربی (روزگار، اقامہ)
تجربہ/ملازمت خط، فنی اسنادNAVTTC یا PEC ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ ← یو اے ای MoFAعربی (روزگار، لائسنسنگ)
مختار نامہ (Power of Attorney)نوٹری/متعلقہ اتھارٹی ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ ← یو اے ای MoFAعربی (مین لینڈ) / انگریزی (DIFC معاملہ)
وفات کا سرٹیفکیٹNADRA/متعلقہ ← وزارتِ خارجہ ← یو اے ای سفارت خانہ ← یو اے ای MoFAعربی (وراثت، عدالت)
جن ٹھوکروں سے فائل رکتی ہے

عام غلطیاں اور ان کا حل

  • The mistakeصرف اپاسٹل لگوا کر سمجھنا کہ دستاویز دبئی کے لیے تیار ہے۔

    The fixیو اے ای کے لیے پورا قونصلی سلسلہ مکمل کریں: وزارتِ خارجہ پاکستان، یو اے ای سفارت خانہ اسلام آباد، پھر یو اے ای MoFA۔

  • The mistakeپاکستان میں کسی حلف یافتہ مترجم سے عربی ترجمہ کروا کر لانا۔

    The fixیو اے ای کے اداروں کے لیے عربی ترجمہ وزارتِ عدل کے لائسنس یافتہ مترجم سے کروائیں۔

  • The mistakeدستاویز اور پاسپورٹ پر نام کی ہجے مختلف چھوڑ دینا۔

    The fixہر دستاویز پر نام کی ہجے پاسپورٹ کے مطابق ہم آہنگ کریں؛ فرق ہو تو وضاحتی حلف/اصلاح پہلے کرائیں۔

  • The mistakeہاتھ سے لکھے پرانے نکاح نامے کو جوں کا توں مشینی ترجمے کے لیے دینا۔

    The fixنستعلیق اندراج کو پہلے درست پڑھ کر بحال کریں، پھر مستند ترجمہ کرائیں۔

  • The mistakeبغیر پوچھے ترجمہ پہلے کروا لینا جبکہ ادارہ اصل کی تصدیق پہلے مانگتا ہے۔

    The fixمنزل کے ادارے سے ترتیب اور ہدف زبان (عربی/انگریزی) پہلے تصدیق کریں۔

  • The mistakeNADRA کے کمپیوٹرائزڈ اور پرانے ہاتھ سے لکھے ریکارڈ کے فرق کو نظرانداز کرنا۔

    The fixدونوں ریکارڈ کی مطابقت جانچیں تاکہ نام/تاریخ کا تضاد فائل نہ رکوا دے۔

اصل مہارت

نستعلیق خطاطی اور دوہرا ریکارڈ: وہ کام جو صرف اردو پڑھنے والا کر سکتا ہے

پاکستانی خاندانی دستاویزات کی ایک بڑی تعداد آج بھی ہاتھ سے، نستعلیق میں لکھی ہوتی ہے — پرانے نکاح نامے، یونین کونسل کے قدیم اندراج، اور پنجاب/سندھ کے لینڈ ریکارڈ۔ ان میں نام، تاریخیں اور شرائط اکثر مدھم، مختصر یا مقامی اندازِ تحریر میں ہوتی ہیں۔

یہ محض ’ترجمہ‘ نہیں، بلکہ پہلے درست خوانی اور بحالی کا کام ہے۔ ایسا شخص جو صرف عربی روانی سے پڑھتا ہو لیکن نستعلیق اردو کی خطاطی سے مانوس نہ ہو، اِن اندراجات کو ٹھیک سے پڑھ ہی نہیں سکتا — اور غلط خوانی سیدھی غلط تصدیق بن جاتی ہے۔

اس پر ایک اور پرت ’دوہرے ریکارڈ‘ کی ہے: NADRA کا کمپیوٹرائزڈ اندراج اور اصل ہاتھ سے لکھا دستاویز اکثر نام کی ہجے یا تاریخ میں معمولی فرق رکھتے ہیں۔ ترجمے سے پہلے ان کو ملانا اور پاسپورٹ کی ہجے سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، ورنہ دبئی کا ادارہ تضاد پکڑ کر فائل روک دیتا ہے۔ یہی وہ باریکی ہے جہاں اردو کی مہارت انگریزی یا عربی صفحے کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔

الٹی سمت اور حدود

یو اے ای سے پاکستان، اور MANJAZ کا دائرہ کار

اگر معاملہ الٹا ہو — یعنی دبئی میں جاری دستاویز (شادی، ولادت، یو اے ای کی ڈگری، یا کوئی معاہدہ) پاکستان میں استعمال کرنی ہو — تو سلسلہ بھی الٹ جاتا ہے: پہلے یو اے ای کی وزارتِ خارجہ سے تصدیق، پھر یو اے ای میں پاکستانی سفارت خانہ/قونصلیٹ سے، اور پھر پاکستان میں متعلقہ محکمہ۔ ہدف زبان پاکستانی ادارے کی ضرورت کے مطابق (عام طور پر انگریزی، اور کہیں کہیں اردو) ہوتی ہے۔

MANJAZ کا کردار واضح اور محدود ہے: ہم آپ کی فائل تیار اور مربوط کرتے ہیں، درست ترتیب اور ہدف زبان کی رہنمائی دیتے ہیں، اور وزارتِ عدل کے لائسنس یافتہ عربی ترجمے کا بندوبست کرتے ہیں۔

MANJAZ کوئی سرکاری ادارہ نہیں، نہ قانونی فرم؛ ہم خود دستاویزات جاری نہیں کرتے، سرکاری مہریں نہیں لگاتے، اور نہ کوئی سرکاری فیس یا دورانیہ مقرر کرتے ہیں۔ فیس اور اوقات متعلقہ حکومتی محکمے طے کرتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

نہیں۔ اپاسٹل صرف اُن ممالک کے درمیان کام کرتا ہے جو دونوں ہیگ کنونشن کے رکن ہوں۔ یو اے ای اس کنونشن کا رکن نہیں، اس لیے پاکستانی اپاسٹل تنہا دبئی میں قبول نہیں ہوتا۔ آپ کو مکمل قونصلی سلسلہ درکار ہے: وزارتِ خارجہ پاکستان، پھر اسلام آباد میں یو اے ای سفارت خانہ، اور پھر یو اے ای کی وزارتِ خارجہ۔

اپنی پاکستانی دستاویزات کی فہرست اور یہ بتائیں کہ فائل کہاں جمع ہونی ہے — MANJAZ درست ترتیب، ہدف زبان، اور وزارتِ عدل سے تسلیم شدہ عربی ترجمے کے ساتھ آپ کی فائل تیار اور مربوط کرے گا۔

اپنی فائل کا جائزہ لیں
Next step

How can we help?

Tell us about your document and we will confirm what it needs.